جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 17:37
حضرت زینبؑ کا صبر و استقامت، کربلا سے فلسطین تک مظلوموں کے لیے مشعلِ راہ؛ جنگ میں فتح و شکست کا معیار صرف عسکری کامیابی نہیں، مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی

حوزہ/ کریم پور، کرناٹک میں مسجدِ عسکری میں امامِ جمعہ و جماعت حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے خطبۂ جمعہ میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت، ایامِ فاطمیہ اور فلسطین و ایران کے حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مؤمنین کو اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور دنیا میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے دعا کرنے کی تلقین کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کریم پور، کرناٹک میں مسجدِ عسکری میں امامِ جمعہ و جماعت حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے خطبۂ جمعہ میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت، ایامِ فاطمیہ اور فلسطین و ایران کے حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مؤمنین کو اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور دنیا میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے دعا کرنے کی تلقین کی۔

مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے پہلے خطبے میں سورۂ آلِ عمران کی آیت 178 کی تلاوت اور تشریح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کافروں کو دی جانے والی مہلت کا ذکر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے واقعۂ کربلا کے بعد دربارِ یزید میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے تاریخی خطبے اور آپ کے جرأت مندانہ موقف کو بیان کیا۔ انہوں نے حضرت زینبؑ کی ولادت کی مناسبت سے تمام مؤمنین کو مبارک باد پیش کی اور روزِ جمعہ کی مبارک باد بھی دی۔

انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول روایت «أُوصِيكُمْ بِهَا، فَإِنَّهَا شَبِيهَةٌ بِخَدِيجَةَ الْكُبْرَى» کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عظمت و فضیلت بیان کی۔ مولانا نے کہا کہ آپ خاندانِ اہلِ بیتؑ کی عظیم ہستی اور شجاعت، صبر، عبادت اور استقامت کی روشن مثال ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے حضرت زینبؑ کی شان میں یہ اشعار بھی پیش کیے:

علیؑ کی بیٹی کو جھک کر سلام کر، اسلام

یہ دو اماموں کو گھر تک بچا کے لائی ہے

خطبے کے دوران ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشہور حدیث «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، مَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي» بھی بیان کی گئی، جس کا مفہوم ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا میرے وجود کا حصہ ہیں؛ جس نے انہیں ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔ مولانا نے اس حدیث کی روشنی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت و منزلت اور اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت و وابستگی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

دوسرے خطبے میں مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے فلسطین اور ایران کے حالات، بالخصوص طوفان الاقصیٰ کے بعد پیش آنے والے واقعات اور خطے میں ہونے والی شہادتوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اسماعیل ہنیہ، سید حسن نصراللہ اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں سوال اٹھایا کہ جنگوں میں کامیابی اور شکست کا حقیقی معیار کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ جنگ کو صرف عسکری نتائج اور میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بنیاد پر نہیں پرکھنا چاہیے، بلکہ نظریات، انسانی ضمیر اور عالمی رائے عامہ پر اس کے اثرات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، ماضی میں اسرائیل کے بارے میں پائی جانے والی بعض ہمدردیوں کے برعکس، غزہ میں جاری انسانی المیے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطینی عوام کے حق میں اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔

مولانا نے کہا کہ عالمی رائے عامہ میں آنے والی یہ تبدیلی فلسطینی عوام کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے حوالے سے اہم ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس صورتِ حال کی بھاری قیمت فلسطینی عوام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ادا کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مظلوموں کے حقوق، انسانی جانوں کے تحفظ اور انصاف کے قیام کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔

خطاب کے اختتام پر مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے پوری دنیا، بالخصوص ہندوستان میں امن و امان، اتحاد و اتفاق اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha